← محرابِ جاں
1
خُدا کی ذات کا وہ جلوۂ مِثال ملے
حسین ترین مجھے مظہرِ جمال ملے
2
جہاں بھر کی اے شروتیں⚠️ میسّر ہوں
حبیبِ حق کی ہے دولتِ وِصال ملے
3
قسم خُدا کی یہ مِعراجِ بندگی ہو گا
اگر جبیں کو مِری وہ درِ کمال ملے
4
بڑا ہوں لاکھ مگر اُنتی⚠️ تو ہوں اُن کا
نوید لُطف مجھے میرے ذُوالجلال ملے
5
عطا مجھے بھی ہو فیضاں نِسبتِ صدّیق
دِلِ اویس ملے دیدۂ بلال ملے
6
بفضلِ حق میں گزاروں گا نعت گوئی میں
جہانِ فانی میں جیتے بھی ماہ و سال ملے
7
حضور حق ہے مِری اِلتجا مِری ساؔجِد
کرے جو دِل کو مِرے مست وہ خِیال ملے