← محرابِ جاں
خُدا کی ذات کا وہ جلوۂ مِثال ملے
حسین ترین مجھے مظہرِ جمال ملے
جہاں بھر کی اے شروتیں⚠️ میسّر ہوں
حبیبِ حق کی ہے دولتِ وِصال ملے
قسم خُدا کی یہ مِعراجِ بندگی ہو گا
اگر جبیں کو مِری وہ درِ کمال ملے
بڑا ہوں لاکھ مگر اُنتی⚠️ تو ہوں اُن کا
نوید لُطف مجھے میرے ذُوالجلال ملے
عطا مجھے بھی ہو فیضاں نِسبتِ صدّیق
دِلِ اویس ملے دیدۂ بلال ملے
بفضلِ حق میں گزاروں گا نعت گوئی میں
جہانِ فانی میں جیتے بھی ماہ و سال ملے
حضور حق ہے مِری اِلتجا مِری ساجدؔ
کرے جو دِل کو مِرے مست وہ خِیال ملے