محرابِ جاں
1

جس کے دِل میں رحمتہ لِلعالَمین کی یاد ہے

وہ بفضلِ حق تعالیٰ کرب سے آزاد ہے

2

اُسوۂ حسنہ میں جس کی دخل گئی ہے زِندگی

کامیاب و کامراں وہ خانماں آباد ہے

3

ہے وظیفہ جس کا سُلطانِ دو عالَم پر درود

ہے فُغاں کب اُس کے لب پر اور کہاں فریاد ہے

4

شاہ کا نغمہ سرا ہے جو پُرندۂ⚠️ خوشنوا⚠️

دام سے بے فکر وہ یگانۂ صیّاد ہے

5

جب سے ہے پیوست دِل میں اُن کی یاد اُن کا خِیال

جاں مِری خرّم و خورسند ہے دِل شاد ہے

6

دین کا باغی امیرِ مومناں ہوا الاماں

یہ سراسر ظلم و استبداد ہے الحاد ہے

7

آ گیا ساؔجِد مہینۂ شاہ کے میلاد کا

مشرق و مغرب میں اِک شورِ مبارکباد ہے