محرابِ جاں
1

اِضطِراب و غم اے کوئی نہ فکر و بیم ہے

حکمِ نبی کے سامنے جس کا سرِ تسلیم ہے

2

پرتوِ ذاتِ احَدِ احمد کی ہے ذاتِ کریم

درمیاں اِن دو کے برزخ ایک حرفِ میم ہے

3

کھل گیا جس پر المعنیٰ⚠️ نبی بابِ خبر

پھر کہاں اُس کو خِیالِ بدول⚠️ و تقویم ہے

4

بے ادب اُن کا ہے دُنیا اور عقبیٰ میں ذلیل

ہے معزّز دِل میں جس کے شاہ کی تعظیم ہے

5

حق عطا کرتا ہے تخت و تاج ہم و زر و سیم⚠️

سب نبی کے ہاتھ سے دولت کی یہ تقسیم ہے

6

مُصطفٰؐے کا رنگ ہے رنگِ خُدائے دو جہاں

خامۂ دستِ نبی توحید کی تعلیم ہے

7

اِک الف کی ہے تمنّا ہر گھڑی ساؔجِد مجھے

آرزوئے بار⚠️ مجھے کوئی نہ شوقِ جیم ہے