← محرابِ جاں
اُسوۂ شاہِ رُسُل کی پِیرَوی ایمان ہے
حق کا محبوب مکرّم میرے دِل کی جان ہے
ہے حقیقت کا خزانہ اُن کا سینۂ مرحبا
وہ بدنِ نُوری دلیلِ حق خُدا کی شان ہے
بھیج سوغاتیں درودوں کی اُنہیں شام و سحر
پڑھ سلام اُن پر کہ درد و غم کا یہ دَرماں ہے
راز کھولا ہم پہ سرِ بستۂ⚠️ علیٰ قدرِ عقول
اُن کا ہر عالَم و عارِف پر بڑا اِحسان ہے
شاہکارِ قدرت و حکمت حسین شانِ جلی
خَلقِ و حق کا دِل نشیں جامعِ نِشاں انسان ہے
بخشتے ہیں تاجِ شاہی اُن کو جھکتے کے فقیر
اُن کے در پر عام نبی دولتِ عِرفان ہے
بھیجے⚠️ ہے اُن کے درِ اَقُدس پہ ساجدؔ رات دِن
ہرگھڑی اُن کا پھیلا رحمت کا دستر خان ہے