محرابِ جاں
1

اُسوۂ شاہِ رُسُل کی پِیرَوی ایمان ہے

حق کا محبوب مکرّم میرے دِل کی جان ہے

2

ہے حقیقت کا خزانہ اُن کا سینۂ مرحبا

وہ بدنِ نُوری دلیلِ حق خُدا کی شان ہے

3

بھیج سوغاتیں درودوں کی اُنہیں شام و سحر

پڑھ سلام اُن پر کہ درد و غم کا یہ دَرماں ہے

4

راز کھولا ہم پہ سرِ بستۂ⚠️ علیٰ قدرِ عقول

اُن کا ہر عالَم و عارِف پر بڑا اِحسان ہے

5

شاہکارِ قدرت و حکمت حسین شانِ جلی

خَلقِ و حق کا دِل نشیں جامعِ نِشاں انسان ہے

6

بخشتے ہیں تاجِ شاہی اُن کو جھکتے کے فقیر

اُن کے در پر عام نبی دولتِ عِرفان ہے

7

بھیجے⚠️ ہے اُن کے درِ اَقُدس پہ ساؔجِد رات دِن

ہرگھڑی اُن کا پھیلا رحمت کا دستر خان ہے