← محرابِ جاں
1
پَیکر وہ بے مِثال سراپائے نُور ہے
شکلِ بشر سے ذاتِ خُدا کا ظہور ہے
2
عِرفانِ حق کی مجھ کو سعادت نصیب ہو
یہ اِلتجا حبیبِ خُدا کے حضور ہے
3
یا رب! مجھے بھی فیضِ حضوری کا ہو عطا
ایوانِ مُصطفٰؐے سے غلام اُن کا دور ہے
4
کافی ہے اِک نظر اسے مانا یہ اُمّتی
آلودہ معصیت سے ہے اور پُر قصور ہے
5
بن جائے بات گر ہو کرم اُن کا گو بہت
دُشوار راہِ شوق ہے دِل نا صبور ہے
6
فیضان سب ہے اُن کے درود و سلام کا
دِل میں مِرے جو رات دِن لُطف و سرُور ہے
7
ہر شاخسار ہر گھڑی ساؔجِد ہے محوِ ذِکر
مشغول حمد و نعت ہجومِ طیور ہے