محرابِ جاں

بزمِ شے⚠️ میں جو باریاب ہوئے

تھے سیہ جان ماہتاب ہوئے

وہ سرِ حلقۂ رسولاں ہیں

وہ زمانے کا انتخاب ہوئے

حرف اُن کا ہے عین حرفِ خُدا

سربسر حق کی وہ کتاب ہوئے

آپ شانِ احَد سراپا حق

حق کے محبوب حقِ جناب ہوئے

آپ کا ایک حرفِ حق سُن کر

سب مخنداں⚠️ لاجواب ہوئے

جو تَصوُّر میں اُن کے ڈوب گئے

لوگ وہ روشنی کے باب ہوئے

ساجدؔ اُن کے گَدا ہیں میر و غنی

حاضِر اس در پہ پیچ⚠️ و شاب ہوئے