← محرابِ جاں
1
شُکرِ حق وا کرم کا باب ہوا
ختم اب دِل کا اِضطِراب ہوا
2
دیکھ کر روشنی رُخِ اُن کی
ماہِ کامِل بھی آب آب ہوا
3
بس محبّی⚠️ یادِ اُن کی جس دِل میں
جلوہ افشاں وہ ماہتاب ہوا
4
بسکہ منزِل پہ بے مَکاں پہنچا
جب کوئی اُن کے ہرکارہ⚠️ ہوا
5
دوست اُن کا بہت ہوا شاداں
دشمن اُن کا بہت خراب ہوا
6
وہ بشر وہی جس پہ آتی تھی
جِسمِ نُوری وہ لاجواب ہوا
7
راستا اُن کا راہِ حق ساؔجِد
رَہبَرِ اُن کا کامیاب ہوا