← محرابِ جاں
کہکشاں سے بڑھ کے ہے بَطحا کا ہر رستا مجھے
گُنبدِ خضری نِشاطِ روح ہے کیا کیا مجھے
غیب سے اسباب بن جاتے ہیں زادِ راہ کے
جب بھی آتا ہے پَیامِ اِذنِ رحمت کا مجھے
گھیر لیتا ہے مجھے جاں بخش یادوں کا ہجوم
چھوڑتا ہے کب خِیالِ مصطفیٰ تنہا مجھے
میں بفضلِ حق تعالیٰ ہوں غلامِ مصطفیٰ
بے سہارا ناتواں سمجھے نہ یہ دُنیا مجھے
میں ہوں وہ مزروع⚠️ کہ ہے شاداب جو ہر فصل میں
کرتا ہے سیراب لُطفِ خاص کا دریا مجھے
دِل میں ہے کوئی گِرہ میرے نہ لب پر ہے بھلا⚠️
کر دیا اُن کے کرم نے غم سے بیگانہ مجھے
دِل میں میرے خُلد کی ساجدؔ نہیں کوئی ہوس
چاہیے شاہِ رُسل کا چہرہ زیبا مجھے