محرابِ جاں
1

کہکشاں سے بڑھ کے ہے بَطحا کا ہر رستا مجھے

گُنبدِ خضری نِشاطِ روح ہے کیا کیا مجھے

2

غیب سے اسباب بن جاتے ہیں زادِ راہ کے

جب بھی آتا ہے پَیامِ اِذنِ رحمت کا مجھے

3

گھیر لیتا ہے مجھے جاں بخش یادوں کا ہجوم

چھوڑتا ہے کب خِیالِ مُصطفٰؐے تنہا مجھے

4

میں بفضلِ حق تعالیٰ ہوں غُلامِ مُصطفٰؐے

بے سہارا ناتواں سمجھے نہ یہ دُنیا مجھے

5

میں ہوں وہ مزروع⚠️ کہ ہے شاداب جو ہر فصل میں

کرتا ہے سیراب لُطفِ خاص کا دریا مجھے

6

دِل میں ہے کوئی گِرہ میرے نہ لب پر ہے بھلا⚠️

کر دیا اُن کے کرم نے غم سے بیگانہ مجھے

7

دِل میں میرے خُلد کی ساؔجِد نہیں کوئی ہوس

چاہیے شاہِ رُسل کا چہرہ زیبا مجھے