محرابِ جاں

عرب آپ کا ہے عجم آپ کا

سرِ عرش اسطے⚠️ قدم آپ کا

نہیں اُن کے بدل و عطا کا شُمار

ہے سارے جہاں پر کرم آپ کا

ہے آئینۂ قدرتِ ذاتِ حق

ہے یکسر ظہورِ اَتَم آپ کا

وجودِ آپ کا مرکزِ کائنات

ہے آفاق کی جاں دم آپ کا

بناتا ہے خاک کو کیمیا

تَصوُّرِ خُدا تھی قسم آپ کا

دِل و جاں کی تَسکین یادِ آپ کی

نِشاطِ دو عالَم ہے غم آپ کا

زمیں تھی یہ ساجدؔ نہ تھا آسماں

عمرِ نُور تھا مرحم آپ کا