محرابِ جاں
1

چھایا ہے شَرق و غَرب میں میرے حضور کا

اللہ کے جمال کے دِلکش ظہور کا

2

بٹتا ہے جِسم دِل تو زیارت نہیں محال

ہے بے نِقاب جلوۂ حقیقت کے نُور کا

3

رحمت ہے بے حِساب خُدائے کریم کی

اتنا بھی غم نہ کیجیے جرم و قصور کا

4

جلوۂ رُخِ رسُول کا بس چاہیے مجھے

دِل میں نہیں خِیال کچھ اور قصور کا

5

دیتی ہے اور ہی مزا یادِ رسُولِ پاک

تعجّب ہے ذِکرِ نبی کے سرُور کا

6

سنتے ہیں وہ فُغاں مِری نزدیک و دُور سے

کچھ فرق ہی نہیں وہاں نزدیک و دور کا

7

ساؔجِد کریں گے میری شفاعت مِرے حضور

کھٹکا نہیں ذرا مجھے یومِ نشور کا