محرابِ جاں

حضرت اِمام حسین

مقطع ↓
1

حق اور صداقت کا پَیکر کیسے سے نکل کر آتا ہے

تاریک فضائے باطِل میں سُورج کی طرح لہراتا ہے

2

ماحول میں اِک سناٹا ہے دِل ارض و سما کے ہیں لرزاں

فرزندِ حبیبِ خالِق سے اِک شومِ مشقّت ٹکراتا ہے

3

ہے سب یہ مَشیّت کا ایما پر ہول بہت ہے نظارا

شبّیر پڑا ہے سجدے میں ظالم تلوار چلاتا ہے

4

تاریخِ رقم کی غیرت کی ہمّت کی اور حمیّت کی

خطبوں سے جَنابِ زینب کے دِلِ باطِل کا تھرا آتا ہے⚠️

5

سجاتے⚠️ کے پاؤں میں زنجیریں سرداریاں پردہ داروں کے

دِل سوز یہ دیکھ کے منظَر پھر کو پیتے⚠️ آتا ہے

6

کب ایسا ظلم ہوا پہلے کب ایسا جرم ہوا پہلے

حیران ہے عالَم اب دشمن⚠️ منصف کیا حکم لگاتا ہے

7

ہے اہلِ بیتِ محمّد پر یہ جاں قُرباں ایماں قُرباں

ساؔجِد ہے غلام اودنی⚠️ اُن کا شاعر اُن کا کہلاتا ہے