← محرابِ جاں
حضرت اِمام حسین
مقطع ↓حق اور صداقت کا پَیکر کیسے سے نکل کر آتا ہے
تاریک فضائے باطِل میں سُورج کی طرح لہراتا ہے
ماحول میں اِک سناٹا ہے دِل ارض و سما کے ہیں لرزاں
فرزندِ حبیبِ خالِق سے اِک شومِ مشقّت ٹکراتا ہے
ہے سب یہ مَشیّت کا ایما پر ہول بہت ہے نظارا
شبّیر پڑا ہے سجدے میں ظالم تلوار چلاتا ہے
تاریخِ رقم کی غیرت کی ہمّت کی اور حمیّت کی
خطبوں سے جنابِ زینب کے دِلِ باطِل کا تھرا آتا ہے⚠️
سجاتے⚠️ کے پاؤں میں زنجیریں سرداریاں پردہ داروں کے
دِل سوز یہ دیکھ کے منظَر پھر کو پیتے⚠️ آتا ہے
کب ایسا ظلم ہوا پہلے کب ایسا جرم ہوا پہلے
حیران ہے عالَم اب دشمن⚠️ منصف کیا حکم لگاتا ہے
ہے اہلِ بیتِ محمّد پر یہ جاں قُرباں ایماں قُرباں
ساجدؔ ہے غلام اودنی⚠️ اُن کا شاعر اُن کا کہلاتا ہے