محرابِ جاں

نبیؐ کا نام ہے لاریب چارہ دردِ بیش⚠️ کا

فقَط دِیدار اُن کا ہے عِلاج اس چشمِ پُرنم کا

ہے گُل نبیوں میں جلوہ آفتابِ شاہِ عالَم کا

انہی کا ہے کرم فیضان سارا ابنِ مریم کا

اُنہی کے لُطف سے بجھتی ہے ساری تَشنَگی دِل کی

وہ چشمہ رحمتِ خلّاق کے ہیں آبِ زمزم کا

ہے درگاہِ نبیؐ جلسا خاص و عام کا عالَم میں

سہارا بن گیا نامِ شہِ کونین آدم کا

خُدائے دو جہاں کا بھی وظیفہ ہے درود اُن پر

بدل کوئی نہیں عالَم میں اس اِکسیرِ اعظم کا

تعالیٰ اللہ جس کی سِمت مائل چشمِ رحمت ہے

کوئی خدشہ الَم کا ہے نہ اندیشہ اُسے غم کا

سرایت کر گیا صلِّی علیٰ جس کے دِل و جاں میں

کوئی کٹکا نہیں ساجدؔ اُسے نارِ جہنّم کا