محرابِ جاں
1

آپ میں جلوہ نما جو ہے نظارا نُور کا

شعلہ افروز تر درخشندہ ہوا⚠️ ہے طُور کا

2

سعی لا حاصل طبیعاں⚠️ جہاں کی ہے تمام

آپ خود کرتے ہیں چارہ عاشقِ مجبور کا

3

سنتے ہیں وہ گوشِ حق سے اہلِ غم کی داستاں

فاصلہ اُن کو برابر ہے قریب و دور کا

4

ہر کوئی قُرباں شے⚠️ کے گیسوئے تاباں پہ ہے

ہے فدائی ہر کوئی اُن کے رُخِ پُرنور کا

5

حل ہے ساری مشکلوں کا شاہِ مُرسَل پر درود

تجربہ ہے عمر بھر کا مجھ سے بے مقدور کا

6

اُن کے چہرے کی زیارت کی فقَط ہے آرزو

شوقِ دِل میں کچھ نہیں میرے بِہِشت و حور کا

7

ایک مُدّت سے نظر محروم ہے دِیدار سے

بہرِ حق ہو شوق پورا ساؔجِد رنجور کا