محرابِ جاں
1

دامَن بھرے گا کب دِلِ پُر اضطرار کا

دیکھوں میں حسنِ شہرِ نبیؐ کی بہار کا

2

یارب! عطا ہو اِذنِ حضوری کا اب مجھے

لگتا ہے اِک برس مجھے ہل⚠️ انتظار کا

3

چشمِ کرم سے مجھ کو نوازیں مِرے حضور

اب حال ہے زَبُوں دِلِ آشفتہ کار کا

4

لے آئے بادِ دوش پتنگ⚠️ خاکِ رو رسُولؐ

سرمہ بنا نِگاہوں شہرِ نبیؐ کے غُبار کا

5

دلوائیں گے خُدا سے مجھے دولتِ سُکوں

چارہ کریں گے شاہ دِلِ بے قرار کا

6

تنہائیوں میں یادِ نبیؐ ہے سزاورِ جاں

اسم ہی سہارا ہے بے برگ و بار کا

7

فرطِ الَم سے جان ہے ساؔجِد کی منتقل⚠️

آقا ہے پُرنم⚠️ غم سے دِل اس خاکسار کا