محرابِ جاں

آ گیا ماہِ مُبارَک شاہ کے میلاد کا

اہتمام ارض و سما میں ہے مُبارَک باد کا

ہر گھڑی دِل ہے تر و تازہ شِگُفتہ پُر بہار

شُکرِ اِیزَد یہ اثر ہے مصطفیٰ کی یاد کا

ہے مِرے گرد آپ کی چشمِ کرم کا اِک حِصار

راحَتِ جاں کا ہے کوئی کٹکا نہ غمِ صیاد کا

تلخئیِ جاں کی بجھاتے زمزمِ رحمت سے ہیں

چارہ کرتے ہیں کرم سے وہ دِلِ ناشاد کا

بد نصیب اُٹھا ہے جو بھی انجمن سے آپ کی

نام تک بھی مٹ گیا اس خانماں برباد کا

ہے بہت بے حال و مُضطَر نام لیوا آپ کا

اے حبیبِ ربِّ عالَم! وقت ہے اِمداد کا

ہے مصمّم دِل میں بٹھا⚠️ کے لیے عزمِ سفر

اور ساجدؔ مُنتَظر ہوں آپ کے اِرشاد کا