محرابِ جاں
1

آ گیا ماہِ مُبارَک شاہ کے میلاد کا

اہتمام ارض و سما میں ہے مُبارَک باد کا

2

ہر گھڑی دِل ہے تر و تازہ شِگُفتہ پُر بہار

شُکرِ اِیزَد یہ اثر ہے مُصطفٰؐے کی یاد کا

3

ہے مِرے گرد آپ کی چشمِ کرم کا اِک حِصار

راحَتِ جاں کا ہے کوئی کٹکا نہ غمِ صیاد کا

4

تلخئیِ جاں کی بجھاتے زمزمِ رحمت سے ہیں

چارہ کرتے ہیں کرم سے وہ دِلِ ناشاد کا

5

بد نصیب اُٹھا ہے جو بھی انجمن سے آپ کی

نام تک بھی مٹ گیا اس خانماں برباد کا

6

ہے بہت بے حال و مُضطَر نام لیوا آپ کا

اے حبیبِ ربِّ عالَم! وقت ہے اِمداد کا

7

ہے مصمّم دِل میں بٹھا⚠️ کے لیے عزمِ سفر

اور ساؔجِد مُنتَظر ہوں آپ کے اِرشاد کا