محرابِ جاں
1

چارہ اُن کے در پہ ہے ہر بے سر و ساماں کا

ہے وہیں ساماں دِلِ بیمار کے دَرماں کا

2

وزن تھا میرے گناہوں کا بہت بھاری مگر

جس پہ نام اُن کا تھا وہ پلڑا جھکا میزان کا

3

پہلے بھی اُن کے کرم سے آرزو پوری ہوئی

پھر بھی وہ دامَن بھریں گے لُطف سے ارماں کا

4

بالمولیٰ⚠️ ہو گئی جس کو زیارتِ مرقبا⚠️

حال ہے کچھ اور ہی اس دیدۂ حیران کا

5

مرتبہ عالَم میں اُن کا بے مِثال و بے نَظِیر

کوئی پیغمبر نہیں ہم پایہ اُن کی شان کا

6

جس طرح کی تھی شبِ مِعراج حق نے بات

کہنے نہیں کھلتا کہ تھا موضوع کس عنوان کا

7

ہے مِرے دِل کی خُوشی ساؔجِد نبیؐ کا ذِکرِ پاک

فقَط نام آپ کا سرمایہ میری جان کا