محرابِ جاں
1

بروزِ حشر ہر سُو خطرۂ⚠️ میرم⚠️ اہم ہو گا

بہ اِذنِ حق شفاعت کا کھلا باب کرم ہو گا

2

ہے جسے محوِ جمالِ مُصطفٰؐے ہونا

کھلے گی چشمِ باطِن دِل بھی اُس کا جامِ جم ہو گا

3

یقیناً ہر گھڑی برسے گا اُس پر ابرِ رحمت کا

لبوں پر جس کے ذِکرِ شاہِ عالَم و عظیم ہو گا

4

رسُولِ خالِقِ کُل کی نظر ہے مِہرباں جس پر

غم و اندوہ سے آزاد وہ حق کی قسم ہو گا

5

نبیؐ کے اُسوۂ حسنہ کا جو پابند ہے دِل سے

جہاں کا سامنے اس کے رقم تقلیم⚠️ کم ہو گا

6

تَصوُّر میں رسُولِ پاک کے دِن رات جو ڈوبا

گوہر بے بہا ہو گا عجب وہ ذرّ⚠️ ہو گا

7

مجھے اس بات کا ساؔجِد یقیں ہے واثق و راسخ

غلامانِ نبیؐ میں نام میرا بھی رقم ہو گا