← محرابِ جاں
1
بزمِ کونین میں ایسا کوئی مہتاب نہیں
روشنی ایسی نہیں جلوہ نہیں آب نہیں
2
غم و آلام میں یہ عمر گئے⚠️ کی ساری
دِل اگر یادِ شہِ دین سے شاداب نہیں
3
رات دِن درد جدائی سے لبوں پر ہے فُغاں
دِل کو تَسکین نہیں صبر نہیں تاب نہیں
4
کس طرح بھیک درِ رحمتِ حق سے مانگوں
کیا کروں عرض کہ میں واقفِ آداب نہیں
5
مظہرِ ذاتِ احَد دِل کا ہے قبلہ کعبہ
پَیکرِ نُور وہ کب جاں کی محراب نہیں
6
دولتیں ملتی ہیں سب دستِ کرم سے اُن کے
کب عِنایاتِ خُداوند کا دا⚠️ باب نہیں
7
ایک طوفاں ہے نِہاں خانۂ دِل میں ساؔجِد
بات کہنے کو مگر حلقۂ احباب نہیں