محرابِ جاں
1

خوشا نصیب اگر وہ مَقام ہو جائے

مِرا بھی اُن کے غلاموں میں نام ہو جائے

2

نبیؐ کے ذِکر میں یارب! بسر ہو رات مِری

ہر اِک سحر کی مِری یونہی شام ہو جائے

3

اُنہی کی یاد مِرے جان و دِل میں ہو پیوست

زُباں کا وِرد صلوٰۃ و سلام ہو جائے

4

رسُولِ حق کی فقَط اِک نِگاہِ رحمت سے

تجلّیوں کا اُفق میرا جام ہو جائے

5

یہی ہے زمزمِ رحمت خُدا نصیب کرے

عطا جو اُن کی محبت کا جام ہو جائے

6

زیارتیں ہوں شب و روز میرے دِل کو عطا

خِیالِ وحشی⚠️ اگر میرا رام ہو جائے

7

کہانی عمر کی ساؔجِد وہیں ہو ختم مِری

درِ نبیؐ پہ یہ قصّہ تمام ہو جائے