محرابِ جاں
1

آباد دِل نبیؐ کی محبت سے مر⚠️ نہیں

ایسے میں شام شام و سحر بھی مر⚠️ نہیں

2

لُطفِ نظر کا اُن کے نَوازا ہوا فقیر

کب عارِفِ خُدا نہیں کب دیدہ ور نہیں

3

اُن کا خِیال اُن کا تَصوُّر نصیب ہو

ہم کیا کریں کہ فکر کے وہ بال و پر نہیں

4

سنتے قریب و دور سے لاریب آپ ہیں

اپنے غلام کی کہاں اُن کو خبر نہیں

5

آتی ہے وہی حق⚠️ اُن کی نظر میں ہے

خیرالبشر کے ٹوٹی⚠️ برابر بشر نہیں

6

وہ پوریا⚠️ نشیں ہیں عالَم کے تاجور

کوئی جہاں میں اُن سا شہے⚠️ نامور نہیں

7

ساؔجِد غُلامِ آپ کا دائم ہے کامراں

آباد و شاد آپ کا نقشِ مر⚠️ نہیں