محرابِ جاں
1

گُل کی وہ انجمن ہے نہ بزمِ قمر میں ہے

جوہرِ جمال کا جو شہے⚠️ نامور میں ہے

2

پاتے ہیں لاعلاج شِفا اُن کے ہاتھ سے

قدرت کا نُور سرمدی اُس چارہ گر میں ہے

3

ملتا نہیں ہے اور کہیں بھی جہاں میں

وہ کیف جو مدینے کے شام و سحر میں ہے

4

فرمان حق ہے ہاتھ ہے اُن کا خُدا کا ہاتھ

پوشیدہ محمدؐؐؐؐ⚠️ ذات کا خیرالبشر میں ہے

5

فیضان ہے درود کا رحمت کا ہے ظہور

جو لُطفِ شہد میں ہے مزا جو شُکر میں ہے

6

سمجھے گا کم نظر کوئی کیا اُن کی شان کو

ذاتِ خُدائے پاک نبیؐ کی نظر میں ہے

7

ہوتی ہیں دِل کی منزلیں طے اُن کی یاد میں

میرا خِیال رات دِن ساؔجِد سفر میں ہے