محرابِ جاں

گُل کی وہ انجمن ہے نہ بزمِ قمر میں ہے

جوہرِ جمال کا جو شہے⚠️ نامور میں ہے

پاتے ہیں لاعلاج شِفا اُن کے ہاتھ سے

قدرت کا نُور سرمدی اُس چارہ گر میں ہے

ملتا نہیں ہے اور کہیں بھی جہاں میں

وہ کیف جو مدینے کے شام و سحر میں ہے

فرمان حق ہے ہاتھ ہے اُن کا خُدا کا ہاتھ

پوشیدہ محمدؐؐ⚠️ ذات کا خیرالبشر میں ہے

فیضان ہے درود کا رحمت کا ہے ظہور

جو لُطفِ شہد میں ہے مزا جو شُکر میں ہے

سمجھے گا کم نظر کوئی کیا اُن کی شان کو

ذاتِ خُدائے پاک نبیؐ کی نظر میں ہے

ہوتی ہیں دِل کی منزلیں طے اُن کی یاد میں

میرا خِیال رات دِن ساجدؔ سفر میں ہے