← محرابِ جاں
1
سیّدِ کونین کا عِرفاں تھا جس کو نصیب
جو تصوّف کا تھا تاجِ شاہیاں⚠️ رخصت ہوا
2
یادِ حق میں رات دِن رہتا تھا جو ڈوبا ہوا
دِل تھا جس کا جلوۂ حق کا مَکاں رخصت ہوا
3
نام تھا جس کے لبوں پر مُصطفٰؐے کا روز و شب
جو زمیں بھجر⚠️ کا تھا آسماں رخصت ہوا
4
کیا ہی تھی پُرکیف دائم اُس کی محفِل کی فضا
ذاکروں کا وہ امیرِ کارواں رخصت ہوا
5
محوِ عشّاق تھا وہ پَیکرِ لُطف و کرم
جو محبّت کی حَسِیں تھا داستاں رخصت ہوا
6
اُس کے جاں و دِل حضوری تھے شدّتِ⚠️ لولاک کے
بے نَوا پر جو سدا تھا مِہرباں رخصت ہوا
7
بچتے⚠️ نبی کی نظروں میں ہو گیا رخصت کمال
اپنے دِل سے وہ مگر ساؔجِد کہاں رخصت ہوا