محرابِ جاں

ذی وقار کمال

1

نہ کوئی بعد نہ دُوری ہے ذی وقار کمال!

ولی تو حق کا حضوری ہے ذی وقار کمال!

2

جو پاس بیٹھا تِرے روشنی میں ڈوب گیا

کہ انجمن تیری نُوری ہے ذی وقار کمال!