محرابِ جاں

اہلِ ثروت دنگ ہیں شانِ نُبُوت دیکھ کر

رحمتِ لُطف و عِنایَت اور رافت دیکھ کر

بن گئے اہلِ نظر آئینۂ حیرت تمام

آدمی کی شکل میں نُورِ حقیقت دیکھ کر

میر و سُلطاں کو ندامت سے پسینہ آ گیا

آپ کے خُدّام در کی شان و شوکت دیکھ کر

دِل مِرا مشحون⚠️ ہوا دستِ طلب حیران ہے

اُن کے فیضِ لُطف کے داماں کی وسعت دیکھ کر

سنگ تھے اہلِ خِرد آمدِ شاہِ دین کی

ہر طرف اللہ کی رحمت کی حکومت دیکھ کر

رابطہ اُن سے باعثِ بَخشِش بنے گا لازم

ہم پہ ہوں گی رحمتیں لاریب نِسبت دیکھ کر

شاہ روزِ حشر ساجدؔ بخشوَائیں گے ہمیں

سب ادھر دوڑیں گے اندازِ شفاعت دیکھ کر