محرابِ جاں
1

اہلِ ثروت دنگ ہیں شانِ نُبُوت دیکھ کر

رحمتِ لُطف و عِنایَت اور رافت دیکھ کر

2

بن گئے اہلِ نظر آئینۂ حیرت تمام

آدمی کی شکل میں نُورِ حقیقت دیکھ کر

3

میر و سُلطاں کو ندامت سے پسینہ آ گیا

آپ کے خُدّام در کی شان و شوکت دیکھ کر

4

دِل مِرا مشحون⚠️ ہوا دستِ طلب حیران ہے

اُن کے فیضِ لُطف کے داماں کی وسعت دیکھ کر

5

سنگ تھے اہلِ خِرد آمدِ شاہِ دین کی

ہر طرف اللہ کی رحمت کی حکومت دیکھ کر

6

رابطہ اُن سے باعثِ بَخشِش بنے گا لازم

ہم پہ ہوں گی رحمتیں لاریب نِسبت دیکھ کر

7

شاہ روزِ حشر ساؔجِد بخشوَائیں گے ہمیں

سب ادھر دوڑیں گے اندازِ شفاعت دیکھ کر