محرابِ جاں
1

حُسن کا ذاتِ احَد کے دِل میں جلوہ چاہیے

رات دِن چہرہ خیالوں میں نبیؐ کا چاہیے

2

سبز گُنبد کی بہار روح اَفِزا چاہیے

میری آنکھوں کو سدا منظَر یہ زیبا چاہیے

3

بند دروازہ دِل غمگیں کا گھلنا⚠️ چاہیے

رحمتِ یزداں کا اِک ہلکا سا جھونکا چاہیے

4

جل رہا ہوں دُھوپ میں کلفت کی سایا چاہیے

اس تپش کا کچھ مُداوا اے مسیحا! چاہیے

5

ابرِ رحمت کا ادھر بھی ایک چھینٹا چاہیے

میرے آقا! تشنہ لب کو جامِ صہبا⚠️ چاہیے

6

پیشِ جاں کے سامنے باغِ تمنّا چاہیے

ثبت دِل پر شاہ کا نقشِ کفِ پا چاہیے

7

یا نبیؐ! ساؔجِد کو اب حلمِ⚠️ معافی⚠️ چاہیے

اب کشادِ عقدۂ اہم و مہم⚠️ سننے چاہیے