← محرابِ جاں
1
رُخِ رسُولؐ سے حق کا سراغ لے کے چلے
ہم ایک گُل کی زیارت سے باغ لے کے چلے
2
یہی نشان ہے روشن نبیؐ سے نِسبت کا
ہم اپنے دِل پہ محبت کا داغ لے کے چلے
3
درودِ سیّدِ لولاک پر ہے شام و سحر
لبوں پہ ہم یہ مَنُور ایاغ⚠️ لے کے چلے
4
خِیالِ اُن کا غموں میں انیس ہے اپنا
شبِ سیاہ میں ہم یہ چِراغ لے کے چلے
5
جو بے نَوا تھے وہ فیضِ کرم سے اب ہیں فتیح⚠️
جو کنگ⚠️ آئے یہاں سے بلاغ⚠️ لے کے چلے
6
دِلِ اہلِ بیت کی اُلفت سے پُر لیے آئے
بھرا نِیاز سے اُن کی دماغ لے کے چلے
7
یہاں جب آئے غموں کا ہجوم تھا ساؔجِد
یہاں سے لوٹ تو غم سے فراغ لے کے چلے