محرابِ جاں

رُخِ رسُولؐ سے حق کا سراغ لے کے چلے

ہم ایک گُل کی زیارت سے باغ لے کے چلے

یہی نشان ہے روشن نبیؐ سے نِسبت کا

ہم اپنے دِل پہ محبت کا داغ لے کے چلے

درودِ سیّدِ لولاک پر ہے شام و سحر

لبوں پہ ہم یہ مَنُور ایاغ⚠️ لے کے چلے

خِیالِ اُن کا غموں میں انیس ہے اپنا

شبِ سیاہ میں ہم یہ چِراغ لے کے چلے

جو بے نَوا تھے وہ فیضِ کرم سے اب ہیں فتیح⚠️

جو کنگ⚠️ آئے یہاں سے بلاغ⚠️ لے کے چلے

دِلِ اہلِ بیت کی اُلفت سے پُر لیے آئے

بھرا نِیاز سے اُن کی دماغ لے کے چلے

یہاں جب آئے غموں کا ہجوم تھا ساجدؔ

یہاں سے لوٹ تو غم سے فراغ لے کے چلے