محرابِ جاں
1

اُن کو خبر ہے میرے دِلِ پُر گُداز کی

صرف اُن سے بات ہے مِری راز و نِیاز کی

2

یا رب! درود میرے لبوں پر ہو رات دِن

مِعراجِ جاں ہو مجھے نعمتِ نماز کی

3

اصلی نظر ہے حُسنِ حقیقت پہ ہر گھڑی

لاریب حق نما ہے یہ صورت مجاز کی

4

دِل کو فضا مَکاں کی وفیقِ⚠️ حق سے ہے

ہے لامَکاں پر نظر اُس حقِ طراز کی

5

اِک ہی نظر میں سارے مَعارِف کے بیاں

کھولی گِرہ اُنہوں نے حقیقت کے راز کی

6

منہ اُس طرف تمام خزانوں کے کھل گئے

دس سُت⚠️ ہے نِگاہ مِرے چارہ ساز کی

7

ساؔجِد بڑی خُوشی سے بسر ہو رہے ہیں دِن

رحمت ہے مجھ پہ خواجۂ مکّیں⚠️ نَواز کی