← محرابِ جاں
1
گرِ مدینے کا مِری قِسِمت میں آب و دانہ ہے
لازماً جاؤں گا میں حق ہے کہاں افسانہ ہے
2
دو جہاں میں حُسن کا جس کے نہیں کوئی جواب
اُس رُخ پر نُور کا میرا یہ دِل دیوانہ ہے
3
اُن کی یاد جاں اَفِزا ہے بہارِ زِندگی
اِک خِیال اُن کا مجھے صد مَستی پیمانہ ہے
4
نُورِ مُطلِق کی زیارت کی تمنّا ہے اگر
شکلِ پیغمبر سے ظاہر جلوۂ جانانہ ہے
5
رونقیں کونین کی ساری ہیں اُن کے نُور سے
اس گُلِ تر کے سِوا عالَم یہ سب دیوانہ ہے
6
ہو قبول بارگاہِ مُصطفٰؐے محرابِ جاں
پیشِ خِدمت اُن کو میرے دِل کا یہ نذرانہ ہے
7
کام ساؔجِد کر گئی اُن کی نِگاہِ اِلتِفات
دِل مِرا تیسرِ⚠️ غمِ عالَم سے اب بے گانہ ہے