محرابِ جاں

گرِ مدینے کا مِری قِسِمت میں آب و دانہ ہے

لازماً جاؤں گا میں حق ہے کہاں افسانہ ہے

دو جہاں میں حُسن کا جس کے نہیں کوئی جواب

اُس رُخ پر نُور کا میرا یہ دِل دیوانہ ہے

اُن کی یاد جاں اَفِزا ہے بہارِ زِندگی

اِک خِیال اُن کا مجھے صد مَستی پیمانہ ہے

نُورِ مُطلِق کی زیارت کی تمنّا ہے اگر

شکلِ پیغمبر سے ظاہر جلوۂ جانانہ ہے

رونقیں کونین کی ساری ہیں اُن کے نُور سے

اس گُلِ تر کے سِوا عالَم یہ سب دیوانہ ہے

ہو قبول بارگاہِ مصطفیٰ محرابِ جاں

پیشِ خِدمت اُن کو میرے دِل کا یہ نذرانہ ہے

کام ساجدؔ کر گئی اُن کی نِگاہِ اِلتِفات

دِل مِرا تیسرِ⚠️ غمِ عالَم سے اب بے گانہ ہے