← محرابِ جاں
نصیبِ تشنۂ لباں اُن کا جام ہو جائے
پَیامِ سرُورِ عالَم کا عام ہو جائے
اُنبی⚠️ کا ذِکر ہے عنوانِ داستانِ حیات
اُنہی کے نام پہ قصّہ تمام ہو جائے
عطا مجھے بھی ہو دِیدارِ حسنِ مُطلِق کا
زیارتِ شہِ ذی احترام ہو جائے
مِرا بھی اُن کے فقیروں میں نام شامِل ہو
مِرا بھی اُن کی گلی میں قیام ہو جائے
عَیاں ہو مفتیِ⚠️ حق دِل پہ ذِکر سے اُن کے
یہ مشغلِ قلب و زُباں کا مُدام ہو جائے
طوافِ کعبہ میسّر ہو اے خُدا! ہر سال
بسرِ مدینے میں ماہِ صیام ہو جائے
ہیں چوکیدارِ ادب سے جو اُن کے در پہ کھڑے
اُنہی غلاموں کا ساجدؔ غلام ہو جائے