← محرابِ جاں
1
نصیبِ تشنۂ لباں اُن کا جام ہو جائے
پَیامِ سرُورِ عالَم کا عام ہو جائے
2
اُنبی⚠️ کا ذِکر ہے عنوانِ داستانِ حیات
اُنہی کے نام پہ قصّہ تمام ہو جائے
3
عطا مجھے بھی ہو دِیدارِ حسنِ مُطلِق کا
زیارتِ شہِ ذی احترام ہو جائے
4
مِرا بھی اُن کے فقیروں میں نام شامِل ہو
مِرا بھی اُن کی گلی میں قیام ہو جائے
5
عَیاں ہو مفتیِ⚠️ حق دِل پہ ذِکر سے اُن کے
یہ مشغلِ قلب و زُباں کا مُدام ہو جائے
6
طوافِ کعبہ میسّر ہو اے خُدا! ہر سال
بسرِ مدینے میں ماہِ صیام ہو جائے
7
ہیں چوکیدارِ ادب سے جو اُن کے در پہ کھڑے
اُنہی غلاموں کا ساؔجِد غلام ہو جائے