محرابِ جاں

جو بجاں و دِل نبی کے در پہ حاضِر ہو گیا

نُور میں جاں دخیل کُنّی⚠️ دِل اُس کا ذاکر ہو گیا

ہو گیا اُن کا فدائی کامیاب و کامراں

دشمنِ جاں اُن کا خائب اور خاسر ہو گیا

اُن کی بَخشِش پر کھلا عقدۂ جہاں کے سامنے

جلوۂ حق شکلِ انسانی میں ظاہر ہو گیا

آشنائے حق ہوا ہے جس نے پہچانا اُنہیں

اُس قِسِمت کھل گئی جو اُن کا ناظر ہو گیا

یاد اُن کی ہے مشامِ جاں کو خوشبوئے حق

نامِ پاک اُن کا مجھے تَسکینِ خاطِر ہو گیا

بھول کر نامِ نبی کچھ بھی نہ یاد اُس کو رہا

وہ خُدا کا نام بھی لیتے سے قاصر ہو گیا

مصطفیٰ کی یاد ساجدؔ روح میں پیوست ہے

خالِقِ ارض و سما کا دِل یہ شاکر ہو گیا