← محرابِ جاں
1
جو بجاں و دِل نبی کے در پہ حاضِر ہو گیا
نُور میں جاں دخیل کُنّی⚠️ دِل اُس کا ذاکر ہو گیا
2
ہو گیا اُن کا فدائی کامیاب و کامراں
دُشمنِ جاں اُن کا خائب اور خاسر ہو گیا
3
اُن کی بَخشِش پر کھلا عقدۂ جہاں کے سامنے
جلوۂ حق شکلِ انسانی میں ظاہر ہو گیا
4
آشنائے حق ہوا ہے جس نے پہچانا اُنہیں
اُس قِسِمت کھل گئی جو اُن کا ناظر ہو گیا
5
یاد اُن کی ہے مشامِ جاں کو خوشبوئے حق
نامِ پاک اُن کا مجھے تَسکینِ خاطِر ہو گیا
6
بھول کر نامِ نبی کچھ بھی نہ یاد اُس کو رہا
وہ خُدا کا نام بھی لیتے سے قاصر ہو گیا
7
مُصطفٰؐے کی یاد ساؔجِد روح میں پیوست ہے
خالِقِ ارض و سما کا دِل یہ شاکر ہو گیا