← محرابِ جاں
جس پہ محبوبِ حق مِہرباں ہو گیا
دور اُس سے غمِ دو جہاں ہو گیا
نامِ شاہِ رُسُل جس کی جاں ہو گیا
راہِ حق کا وہ روشن نِشاں ہو گیا
مٹ گئیں کلفتیں بڑھ گئیں قربتیں
قافلۂ شوق کا جب رواں ہو گیا
بس گیا ہے تَصوُّر میں مہرِ نبی
دِل میں آباد وہ آستاں ہو گیا
اب اُترنے لگا دِل سے زنگِ الَم
اب طلسمِ غم جاں دھواں ہو گیا
اُن کی رحمت سے پُرکیف ہے جاں مِری
لُطف سے اُن کے دِل نقدِ خواں ہو گیا
مل گیا آج ساجدؔ کو اذنِ سفر
تھا جو مجبور دِل شادماں ہو گیا