← محرابِ جاں
1
جس پہ محبوبِ حق مِہرباں ہو گیا
دور اُس سے غمِ دو جہاں ہو گیا
2
نامِ شاہِ رُسُل جس کی جاں ہو گیا
راہِ حق کا وہ روشن نِشاں ہو گیا
3
مٹ گئیں کلفتیں بڑھ گئیں قربتیں
قافلۂ شوق کا جب رواں ہو گیا
4
بس گیا ہے تَصوُّر میں مہرِ نبی
دِل میں آباد وہ آستاں ہو گیا
5
اب اُترنے لگا دِل سے زنگِ الَم
اب طلسمِ غم جاں دھواں ہو گیا
6
اُن کی رحمت سے پُرکیف ہے جاں مِری
لُطف سے اُن کے دِل نقدِ خواں ہو گیا
7
مل گیا آج ساؔجِد کو اِذنِ سفر
تھا جو مجبور دِل شادماں ہو گیا