محرابِ جاں
1

اُن کا عالَم میں کہاں ثانی ہے

وہ بشر پَیکرِ نورانی ہے

2

مظہرِ ذات سراپا اُن کا

اُن کی کونین میں سلطانی ہے

3

خاص و عام پہ نَوازِش اُن کی

اُن کی رحمت کی فراوانی ہے

4

دِل کی آبادی ہے اُن کی یادیں

اور اُنہیں بھولنا ویرانی ہے

5

جاوِداں فیض سے اُن کے مجھ کو

کوئی غم ہے نہ پریشانی ہے

6

دستِ رحمت نے ہیں عُقدے کھولے

اب تو آسانی ہی آسانی ہے

7

تخت اور تاج سے بڑھ کر ساؔجِد

اُس درِ پاک کی دربانی ہے