← محرابِ جاں
راحَتِ سُکون و مُخری⚠️ اِک آن بھی نہیں
اُن کے بغیر دِل بھی نہیں جاں بھی نہیں
جو دِل ہے بے ادب نہیں اُس کا کوئی عِلاج
اُس کی نہیں دوا کوئی دَرماں بھی نہیں
آباد جس نظر میں گَدا اُن کے در کے ہیں
پھونکی⚠️ اُس نظر میں قیصر و خاقاں بھی نہیں
دِل میں نہیں ہے جس کے محبّت رسُول کی
ہے لاش جس میں روح نہیں جاں بھی نہیں
کیا دِل ہے جس میں شوق نہیں اُن کی دید کا
کیا آنکھ جو دیدے سے حیراں بھی نہیں
ذاتِ و صِفات و اسم کا مظہر رسُول ہیں
کیا آدمی ہے جس کو یہ پہچان بھی نہیں
ساجدؔ ہے نعت گوئی ادب کی وہ صفِ خاص
مشکل اگر نہیں ہے تو آساں بھی نہیں