محرابِ جاں
1

راحَتِ سُکون و مُخری⚠️ اِک آن بھی نہیں

اُن کے بغیر دِل بھی نہیں جاں بھی نہیں

2

جو دِل ہے بے ادب نہیں اُس کا کوئی عِلاج

اُس کی نہیں دوا کوئی دَرماں بھی نہیں

3

آباد جس نظر میں گَدا اُن کے در کے ہیں

پھونکی⚠️ اُس نظر میں قیصر و خاقاں بھی نہیں

4

دِل میں نہیں ہے جس کے محبّت رسُول کی

ہے لاش جس میں روح نہیں جاں بھی نہیں

5

کیا دِل ہے جس میں شوق نہیں اُن کی دید کا

کیا آنکھ جو دیدے سے حیراں بھی نہیں

6

ذاتِ و صِفات و اسم کا مظہر رسُول ہیں

کیا آدمی ہے جس کو یہ پہچان بھی نہیں

7

ساؔجِد ہے نعت گوئی ادب کی وہ صفِ خاص

مشکل اگر نہیں ہے تو آساں بھی نہیں