محرابِ جاں
1

آئینۂ ماہتاب ہے جن کے جمال کا

کوئی کرے گا ذِکر کیا اُن کے کمال کا

2

کہنے کو وہ بشر ہیں مگر بے مِثال ہیں

لائے جہاں بھر کوئی اُن کی مِثال کا

3

شاداں ہیں اُن کی یاد سے شام و سحر مِرے

دِل میں مِرے سرُور ہے اُن کے خِیال کا

4

کہتا ہوں اُن سے رنج و الَم کی میں داستاں

کرتا ہوں ذِکر اُنہی سے میں دِل کے مآل کا

5

اُن پر عَیاں ہے غیب پہ توفیقِ ایزدی

ہے کشف اُن کو سارے زمانوں کے حال کا

6

لازم ہے احتیاط عَدُوّ سے مِرے نذیر⚠️

ملتا ہے رنگِ خاک سے رنگ اُس کے جال کا

7

ساؔجِد نہیں خزانۂ قارون کی طلب

کافی مجھے ہے ایک ہی لقمۂ حلال کا