← محرابِ جاں
آئینۂ ماہتاب ہے جن کے جمال کا
کوئی کرے گا ذِکر کیا اُن کے کمال کا
کہنے کو وہ بشر ہیں مگر بے مِثال ہیں
لائے جہاں بھر کوئی اُن کی مِثال کا
شاداں ہیں اُن کی یاد سے شام و سحر مِرے
دِل میں مِرے سرُور ہے اُن کے خِیال کا
کہتا ہوں اُن سے رنج و الَم کی میں داستاں
کرتا ہوں ذِکر اُنہی سے میں دِل کے مآل کا
اُن پر عَیاں ہے غیب پہ توفیقِ ایزدی
ہے کشف اُن کو سارے زمانوں کے حال کا
لازم ہے احتیاط عَدُوّ سے مِرے نذیر⚠️
ملتا ہے رنگِ خاک سے رنگ اُس کے جال کا
ساجدؔ نہیں خزانۂ قارون کی طلب
کافی مجھے ہے ایک ہی لقمۂ حلال کا