محرابِ جاں

موجزن جس میں سَمُندر ہے وہ قطرہ دیکھو

حق عَیاں جس سے ہے وہ مظہرِ زیبا دیکھو

اوّل پہلائیں⚠️ تو وہ جھولیاں بھر دیتے ہیں

پیشِ تم کر کے اُنہیں دِل کی تمنّا دیکھو

مصطفیٰ کا جو ہوا نُور جُدا خالِق سے

ذرّے ذرّے سے وہی نُور ہویدا دیکھو

سرمدی چشمہ ہے اللہ کا اسمِ اعظم

رحمتِ حق کا رواں جس سے ہے دریا دیکھو

ماہ و خورشید کے جَلوے ہیں بہر سُو روشن

چشمِ بینا ہے اگر حسن بہر جا دیکھو

صف بصف جس میں ہوا کرتے ہیں قُدسی حاضِر

سارے عالَم میں ہے جس بزم کا چرچا دیکھو

یہ وہ دربار کہ ساجدؔ ملیں کیہاں اعزاز

یہ وہ در ہے کہ ہر آتی یہاں اعلیٰ دیکھو