محرابِ جاں

روزِ مَحشَر میرا ہر مرحلہ آساں ہو گا

شاہ کا سر پہ مِرے سایۂ داماں ہو گا

راہ کا اُن کی ہر اِک ذرّہ فُرُوزَاں ہو گا

شاہ کا لُطف بہرگام نِگہباں ہو گا

بعد مرنے کے جو ہوں گے میرے احوالِ رقم

عِشقِ خواجہ میرے احوال کا عنواں ہو گا

بھیجے شاہ کو دِن رات درود اور سلام

راستا کتنا ہی دُشوار ہو آساں ہو گا

جب نظر اُن کے کرم کی میری جانِب ہو گی

غم کدۂ دِل کا مِرا رنگِ گُلستاں ہو گا

ہے یقیں مجھ کو مِرے گھر میں وہ آئیں گے ضرور

غالبِ⚠️ کرب زدہ کا مِرے دَرماں ہو گا

موجِ بے مایہ کا جائے گا مقدّر ساجدؔ

مِہرباں اس پہ جو وہ شاہِ سلیماں ہو گا