← محرابِ جاں
1
روزِ مَحشَر میرا ہر مرحلہ آساں ہو گا
شاہ کا سر پہ مِرے سایۂ داماں ہو گا
2
راہ کا اُن کی ہر اِک ذرّہ فُرُوزَاں ہو گا
شاہ کا لُطف بہرگام نِگہباں ہو گا
3
بعد مرنے کے جو ہوں گے میرے احوالِ رقم
عِشقِ خواجہ میرے احوال کا عنواں ہو گا
4
بھیجے شاہ کو دِن رات درود اور سلام
راستا کتنا ہی دُشوار ہو آساں ہو گا
5
جب نظر اُن کے کرم کی میری جانِب ہو گی
غم کدۂ دِل کا مِرا رنگِ گُلستاں ہو گا
6
ہے یقیں مجھ کو مِرے گھر میں وہ آئیں گے ضرور
غالبِ⚠️ کرب زدہ کا مِرے دَرماں ہو گا
7
موجِ بے مایہ کا جائے گا مقدّر ساؔجِد
مِہرباں اس پہ جو وہ شاہِ سلیماں ہو گا