شوقِ فراواں

بسرِ⚠️ حضورؐ کا سر روئے زمیں نہیں

تعلیقِ⚠️ پا سے بڑھ کے یہ عرش بَریں نہیں

جس میں مزا ہو اُن کے سُخن کی مثاس⚠️ کا

بازار میں جہاں کے وہ اچھیں⚠️ نہیں

مقدار⚠️ ہیں اُمورِ شریعت کے آئینہ⚠️

ایسا جہاں میں کوئی بھی سُلطاں ویسی⚠️ نہیں

ہر ایک غلامِ آپؐ کا فرخندہ بخت ہے

رخشندہ⚠️ دِل نہیں کہاں روشن جبیں نہیں

اُن کا درود خواں ہے خُدا کی اماں میں

اُن پر درود کس طرح حُسن حسین⚠️ نہیں

محوِ خِیالِ مصطفیٰ سرمست ہے مُدام

مشغولِ یادِ آپؐ کا ہرگِز حَزیں نہیں

شہرِ نبیؐ کی آب و ہوا دِل نَواز ہے

ایسی فضائے جاں فِزا ساجدؔ کہیں نہیں