شوقِ فراواں
1

سر پہ احساں کسی پیغام⚠️ نہیں لیتے ہیں

غیر کے ہاتھ سے ہم جام نہیں لیتے ہیں

2

یادِ اللہ کی ہو یا کہ شہِ دیں کا خِیال

اور ہم دِل سے کوئی کام نہیں لیتے ہیں

3

لوٹتے ہیں وہ درِ پاک پہ پھر جانے کو

اہلِ اُلفت کبھی آرام نہیں لیتے ہیں

4

اُن کے عشّاق ہیں ڈوبے ہوئے حق میں ایسے

غیرِ از نامِ خُدا نام نہیں لیتے ہیں

5

حق کے پروانوں کا ہوتا ہے جُدا سب سے حِساب

نقدِ جاں دیتے ہیں وہ دام نہیں لیتے ہیں

6

لاکھ بے دم ہوں یہ دِل والے⚠️ سہارا ہو بھی⚠️

جو سہارا ہو بد انجام⚠️ نہیں لیتے ہیں

7

ٹکری⚠️ آپؐ کے کٹ جاتے ہیں لیکن ساؔجِد

ثمرے⚠️ لبوں⚠️ کا الزام نہیں لیتے ہیں