شوقِ فراواں
1

آنکھیں جھپکتی⚠️ ہیں ماہِ لقا کی جناب میں

ہے التماس شاہِ مدنی⚠️ کی جناب میں

2

اُمّت کا حال ہے زَبُوں اے خواجۂ جہاں!

اب ہو دعائے خاص خُدا کی جناب میں

3

اللہ کے کرم سے ملائک ہیں رات دِن

حاضِر حضورِ سیّدنا کی جناب میں

4

اُن کے غلام اُن کے ہیں فرماں کے مُنتَظر

کوئی یہ کہہ دے آلِ عبا کی جناب میں

5

ہوتے ہیں تخت و تاج و حکومت کے فیصلے

محبوبِ ربِّ ارض و سما کی جناب میں

6

رہتے میں اُن کا کوئی پَیمبر نہیں مثیل⚠️

تنہا ہیں آپؐ ربِّ عَلا کی جناب میں

7

ساؔجِد کرے گا آج بیاں دِل کا ماجرا

اس بادشاہِ لُطف و عطا کی جناب میں