← شوقِ فراواں
انہیں کی سِمت اُنہیں میری بار بار آنکھیں
وہ جن پہ ہو گئیں قُرباں بے شُمار آنکھیں
فُغاں لبوں⚠️ پہ ہے آلام و رنجِ دوراں سے
بیاں کرتی ہیں رودادِ اشکبار⚠️ آنکھیں
نصیبِ شہرِ مقدّس کا کب سفر ہو گا
ہیں اُن کے در کی زیارت کو بے قرار آنکھیں
ہو بار بار میسّر زیارت و عمرہ
خُدا کی دیکھیں یہ آیات بار بار آنکھیں
یہ گُل⚠️ زمیں ہے انہیں بڑھ کے باغِ جنّت سے
جو دیکھتی ہیں شہِ دیں کا جلوۂ زار⚠️ آنکھیں
ہو دِن کہ رات مُسَلسَل برستی رہتی ہیں
ہیں معصیت سے مِری سخت شرمسار آنکھیں
جمالِ حق انہیں ساجدؔ دکھاتا ہے
جنہوں نے کیں⚠️ رُخِ سرکار پر نثار آنکھیں