شوقِ فراواں
1

جانِبِ شہرِ نبیؐ صلّی علیٰ جاتا ہوں

لِلّٰہ الحمد خُوشی سے میں اُڑا جاتا ہوں

2

یوں تو کتنے ہی معالج ہیں دوا دینے کو

میں درِ شاہ پہ از بہرِ شِفا جاتا ہوں

3

اے خُدا! مجھ پہ کرم آلِ عبا کے صدقے

اِضطِرابِ دِل و جاں سے میں مِرا⚠️ جاتا ہوں

4

جونہی آلام کا اِک شور سنتا ہے مجھے

بہرِ تسکیں میں مدینے کو چلا جاتا ہوں

5

پِیرَوی شاہِ رُسُل کی مِرا مقصودِ حیات

لے کے دِل میں یہ خِیال آگے بڑھا جاتا ہوں

6

رحمتِ حق مِری رَہبَر ہے کوئی خدشہ نہیں

ہاتھ میں تھامے محبت کا عصا جاتا ہوں

7

جب سے ساؔجِد ہے مِرا وِردِ زُباں نامِ رسُولؐ

صورتِ جامۂ آلودہ دُھلا جاتا ہوں