← شوقِ فراواں
1
ہم قسم کھاتے ہیں جو عاشقِ سُلطان نہیں
وہ کسی طُور غُلامِ شہِ کونین نہیں
2
بات ہے سچ کہ خُدا اور نبیؐ دو ذاتیں
بعد کوئی بھی مگر دونوں کے ما بَین نہیں
3
رنجت⚠️ و کرب سے جو حال ہے دِل کا مت پوچھ
دِن کو تَسکین نہیں، رات کو بھی چین نہیں
4
حُسنِ مُطلِق ہے خُدا بندہ مقیّد مگر
چشمِ توحید میں کیا تین کہاں تین نہیں
5
کوئی اِدراکِ مَشیّت کا نہیں کر سکتا
شاہد اس بات کا کیا مجھ⚠️ بگریں⚠️ نہیں
6
راہِ غم کردہ⚠️ کے رہوار کی تیزی ہے سُود⚠️
سب غلط ہے جو رو⚠️ سیّدِ دارین نہیں
7
ناخنِ خاص سے سمجھتے ہیں یہ عُقدے ساؔجِد
اتنے آسان کوئی معنیِ قوسین نہیں