ذوقِ جمال
1

ہے کہاں عالَم میں ایسا قد رعنا نُور کا

عرشِ طبقی⚠️ بھی آقاؐ کے ہے زیرِ کف پا، نُور کا

2

رات دِن پیش نظر اُن کے تماشا نُور کا

جس کی لوحِ⚠️ دِل پر ہے حرفِ تمنّا نُور کا

3

پہلے حق نے آئنۂ بخش بنایا نُور کا

اِس میں ہم نے دیکھا شاہِ حسن اپنا نُور کا

4

کب وہ ظاہر ہے مظہر احمد ؐ اور احمدؐ سا احَد

لفظ اسی نے کس سے جُدا دیکھا ہے معنی نُور کا

5

وَصل حق ممکِن نہیں ہے مظہرِ حق کے بغیر

جذبِ حق پَیکر ہے وہ خالِقِ کا بھیجا نُور کا

6

جاں نِہاں ہے جِسمِ میں جاں میں نِہاں ذات خُدا

جانتے کم ہیں جو دِل میں ہے چشمۂ نُور کا

7

سرخوش و سَرشار ہے جاں اور دِل سرمست ہے

جب سے ساؔجِد نے دیکھا وہ سرایا نُور کا