ذوقِ جمال
1

عالَمِ ایجاد میں ہر سُو ہے چار نُور کا

سیّد و سرُور، شہِ دیں ہیں سرایا نُور کا

2

حُسنِ عالَم ہیں محمدؐؐؐؐ اور اُن کی آلِ پاک

سارے عالَم کی ہے آبادی گھرانا نُور کا

3

ہر وِلایت میں ہو شاہی مصطفٰےؐ کے دیں کی

حشر تک لہرائے عالَم میں پھریرا نُور کا

4

جسِ کی خُوشبو سے معطر ہو⚠️ اب طیبِ فضا

جوہر نفحات تھا کیا ‌دیا وہ پینا نُور کا

5

دو جہاں اُن کے بمالِ⚠️ حق نُما پر ہیں فِدا

خوب ہے کیا زندِ روحِ⚠️ اَفِزا، کُل ہے زیبا نُور کا

6

کچھ ریاض و زبد⚠️ کا ہونا نہیں ہے لازمی

جب خُدا چاہے نظر آتا ہے رستا نُور کا

7

حال اُنت⚠️ دیکھ کر روتا ہے ساؔجِد رات دِن

کاش پر جائے ادھر بھی ایک چھینا نُور کا