شوقِ فراواں
1

شہرِ نبیؐ پہ باغِ معطّر⚠️ کا اشتیاق

ہر شخص پر ہے یائیں⚠️ پَیکر کا اشتیاق

2

رحمت کے سلسلے ہیں یہ گیسوئے مصطفٰےؐ

صادِق ہے ان پہ نشک⚠️ و عنبر کا اشتیاق

3

ہم شکلِ نِصفِ حسن اور حسین⚠️ میں ہیں

ہوتا ہے ان پہ سیّد و سرُور کا اشتیاق

4

خاموش محو رات دِن گہرے خِیال میں

ہوتا ہے عارفوں پہ سَمُندر کا اشتیاق

5

مظہر ہیں اسمِ ذات کا ہوتا ہے اس لیے

روئے نبیؐ پہ تیز اَنوار کا اشتیاق

6

ان سنگِ سنگِ ریزہ ہائے رہِ شاہِ خسن⚠️ پر

کنگر⚠️ نہ ہو زمرّد و گوہر کا اشتیاق

7

ساؔجِد نبیؐ کے بام پہ جیتے ہیں جو طیور

اُن پر ہے شاہبازوں کے لشکر کا اشتیاق