← شوقِ فراواں
1
فِردَوس ہے یہ گُلشنِ زیبائے مدینہ
جنّت کا وہ حق دار ہے جو آئے مدینہ
2
رہتے میں ہے گُل عالَم ایجاد سے بالا
فرشِ لحدِ سیّدِؐ والا مدینہ
3
ہر بزم میں ہے روشنیِ سُلطانِ ہدیِ⚠️ کی
از شَرق ہے تا غَرب تجلائے⚠️ مدینہ
4
ممکِن ہی نہیں شعلۂ نارِ اُس کے قریب آئے
جس دِل میں ہے یہ داغِ تمنائے مدینہ
5
واللہ ہو! دیں کے تَصوُّر میں جو گُمّ ہیں
دِن رات گھلے اُن پہ ہیں ڈرہانے⚠️ مدینہ
6
ہے داماں غلزار جتنا ہے بھی حَسِیں تر
ہم لوگ یہ کہتے ہیں میرے صحرائے مدینہ
7
رکھل⚠️ اُٹھتے ہیں ساؔجِد وہر⚠️ میں مِری خوشیوں سے
سُفنا ہوں جو احوال دِل افزائے مدینہ