شوقِ فراواں
1

شوق رکھتا ہے سدا تماشا نمجھ⚠️ مجھ کو

رہنے دیتی نہیں یادِ آپؐ کی تنہا مجھ کو

2

جب سے وابستہ ہے دِل میرا نبیؐ کے ذر سے

خوفِ دوزخ کا نہ کوئی غمِ دُنیا مجھ کو

3

دولتِ حُبِّ نبیؐ کا ہے کہاں کوئی بدل

زر ہے درکار نہ کچھ خلعتِ زیبا مجھ کو

4

اے خُدا! تیری کرمگی⚠️ یہ آساں کر دے

جاگتے میں نظر آئیں مِرے آقاؐ مجھ کو

5

عنبر و عود سے ملکا ہوا وہ شہرِ نبیؐ

یاد ہے آبِ و ہوائے طَرَب اَفِزا مجھ کو

6

مستقر⚠️ بیٹھا ہوں کب اِذنِ حضوری ہو گا

آئے گا سیّدِ عالَم کا بلاوا مجھ کو

7

نیم جاں⚠️ راہگور پر میں پڑا تھا ساؔجِد

مل گیا رحمتِ باری کا سہارا مجھ کو