شوقِ فراواں
1

رات دِن مجھ پر تھکلا⚠️ اُن کے کرم کا باپ⚠️ ہو

مستجاب اپنی دعائیں ہوں یہ دِل شاداب ہو

2

زِندگی شوقِ نبیؐ کے نُور سے سیراب ہو

کعبۂ دِل قبلۂ جاں محور القاب ہو

3

وادیِ غربت میں دِل کی ہمسفرِ یادِ اُن کی

نامِ پاک اُن کا پکاریں غم کا جب سیلاب ہو

4

مِشکٔ و عود و عطر اور خُوشبو ہو اور بزمِ درود

برگِ گُل کے ڈھیر ہوں اور چادرِ مہتاب ہو

5

ایسے عالَم میں فقَط آپؐ ہیں میرے دلگیر

جان جب ہو مضطرب اور دِل بے تاب ہو

6

ہوں توفیق خُدا سجدے ہمارے بِ حضورؐ

چشمِ جاں کے سامنے اُس نُورِ کی محراب ہو

7

لائیں گھر میں جب گزرے تشریف ساؔجِد آخوذؐ⚠️

خاک رہِ کا ذرّہ ذرّہ عالَمِ تاب ہو