ذوقِ جمال

میں شانِ شاہِ رُسُل کروں مِرے منہ میں ایسی زُباں نہیں

حضور! آپؐ مظہرِ ذات ہیں کوئی اِس سا شاہِ جہاں نہیں

وہ محبتیں وہ اطاعتیں وہ شرافتیں، وہ فضیلتیں

جو ساتھ ہے بزمِ رسُولؐ کا وہ کہیں جہاں میں ساں نہیں

شب و روز آئیں ملائکہ کریں سلام اور ادب سے جو

مکانِ رسُولؐ کا کوئی اور ایسا مَکاں نہیں

یہ زمیں یہ حسنِ کی جلوتیں، یہ ذِکرِ دیں پر روشنیاں

یہ زمیں کہاں یہ فلَک کہاں جو جہاں سے جانِ جہاں نہیں

ہے وہی وہی ہیں، ہوذی⚠️ عَیاں، ہے شاعرِ حق رسُولؐ کی جاں

ہے رسُولؐ جہانِ جاں، کہاں حقِ رسُولؐ کی جاں نہیں

کیا ادا ہو ہمِ کریم کا، کیسے حق ادا ہو رہیمؐ کا

میں فِدا نبیؐ پر کہ مجھ پر کوئی ایسا حق کا نِشاں نہیں

ہیں جہاں میں سب سے پُر جوشِ ربّ سے رحمتیں پائیں ہیں

کوئی دِل کی بات بتائے تو کہ نَوازِشِ اُن کا کہاں نہیں