ذوقِ جمال
1

میں شانِ شاہِ رُسُل کروں مِرے منہ میں ایسی زُباں نہیں

حضور! آپؐ مظہرِ ذات ہیں کوئی اِس سا شاہِ جہاں نہیں

2

وہ محبتیں وہ اطاعتیں وہ شرافتیں، وہ فضیلتیں

جو ساتھ ہے بزمِ رسُولؐ کا وہ کہیں جہاں میں ساں نہیں

3

شب و روز آئیں ملائکہ کریں سلام اور ادب سے جو

مکانِ رسُولؐ کا کوئی اور ایسا مَکاں نہیں

4

یہ زمیں یہ حسنِ کی جلوتیں، یہ ذِکرِ دیں پر روشنیاں

یہ زمیں کہاں یہ فلَک کہاں جو جہاں سے جانِ جہاں نہیں

5

ہے وہی وہی ہیں، ہوذی⚠️ عَیاں، ہے شاعرِ حق رسُولؐ کی جاں

ہے رسُولؐ جہانِ جاں، کہاں حقِ رسُولؐ کی جاں نہیں

6

کیا ادا ہو ہمِ کریم کا، کیسے حق ادا ہو رہیمؐ کا

میں فِدا نبیؐ پر کہ مجھ پر کوئی ایسا حق کا نِشاں نہیں

7

ہیں جہاں میں سب سے پُر جوشِ ربّ سے رحمتیں پائیں ہیں

کوئی دِل کی بات بتائے تو کہ نَوازِشِ اُن کا کہاں نہیں