← ذوقِ جمال
مرید
مقطع ↓ادنے غلام شاہِ رِسالت آب ہوں
میں کمترین بندہ عالیجناب ہوں
کوئی جو شخصیت⚠️ ہے مجھے، بولتا ہوں میں
لب بستہ ہوں جہاں میں مِثلِ رباب ہوں
حقِ کی صِفات جلوہ قلن⚠️ میری ذات پر
وہ نُور ہوں کہ آپؐ بھی اپنا نِقاب ہوں
آنکھوں پر سفر میں ہوں، نجھ⚠️ کو نہیں قیام
میں عالَمِ وجود میں پا دارِ رکاب ہوں
مظہر ہوں اس کی شانِ جمال و جلال کا
خُوش حال و شادماں، کبھی پُرا⚠️ مضطراب ہوں
میرے عمل سے میں مِری ظُلمت نصیباں ہیں
اُن کی عنایتوں سے میں پُر آبِ⚠️ تاب ہوں
ساجدؔ مرید ہوں، میں اِمامِ حسینؑ کا
میں اِمتحانِ زِندگی میں کامیاب ہوں